فهرس الكتاب

الصفحة 1064 من 7563

کتاب: سورج گرہن کے متعلق بیان

باب: امام گرہن کی نماز میں پہلی رکعت لمبی

1064 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي سَجْدَتَيْنِ الْأَوَّلُ الْأَوَّلُ أَطْوَلُ

ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابو احمد محمد بن زبیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے یحیی بن سعید انصاری نے، ان سے عمرہ نے، ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی دو رکعتوں میں چار رکوع کئے اور پہلی رکعت دوسری رکعت سے لمبی تھی۔

سورج اور چاند گرہن میں نماز با جماعت مسنون ہے مگر حنفیہ چاند گرہن میں نماز با جماعت کے قائل نہیں۔ خدا جانے ان کویہ فرق کرنے کی ضرورت کیسے محسوس ہوئی کہ سورج گرہن میں تو نماز با جماعت جائز ہو اور چاند گرہن میں ناجائز۔ اس فرق کے لیے کوئی واضح دلیل ہونی چاہیے تھی بہر حال خیال اپنااپنا نظر اپنی اپنی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت