2256 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَخْبَرَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانُوا يَتَبَايَعُونَ الْجَزُورَ إِلَى حَبَلِ الْحَبَلَةِ فَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ فَسَّرَهُ نَافِعٌ أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ مَا فِي بَطْنِهَا
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہیں جویریہ نے خبر دی، انہیں نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لوگ اونٹ وغیرہ حمل کے حمل ہونے کی مدت تک کے لیے بیچتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ نافع نے حبل الحبلۃ کی تفسیر یہ کی " یہاں تک کہ اونٹی کے پیٹ میں جو کچھ ہے وہ اسے جن لے۔ "
پھر اس کا بچہ بڑا ہو کر وہ بچہ جنے جیسے دوسری روایت میں اس کی تصریح ہے۔ اس میعاد میں جہالت تھی۔ دوسرے دھوکہ تھا کہ معلوم نہیں وہ کب بچہ جنتی ہے۔ پھر اس کا بچہ زندہ بھی رہ جاتا ہے یا مرجاتا ہے۔ اگر زندہ رہے تو کب حمل رہتا ہے، کب وضع حمل ہوتا ہے۔ ایسی میعاد اگر سلم میں لگائے تو سلم جائز نہ ہوگی۔ گو عادتًا اس کا وقت معلوم بھی ہو سکے۔