فهرس الكتاب

الصفحة 5385 من 7563

کتاب: کھانوں کے بیان میں

باب:( میدہ کی باریک )چپاتیاں کھانا اور خوان( دبیز )اور دسترخوان پر کھانا

5385 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ أَنَسٍ، وَعِنْدَهُ خَبَّازٌ لَهُ، فَقَالَ: «مَا أَكَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزًا مُرَقَّقًا، وَلاَ شَاةً مَسْمُوطَةً حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ»

ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ، ان سے ہمام نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، کہا کہ ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے ، اس وقت ان کا روٹی پکانے والا خادم بھی موجود تھا ۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی چپاتی ( میدہ کی روٹی ) نہیں کھائی اور نہ ساری دم پختہ بکری کھائی یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے ۔

حدیث میں لفظ " مسمو طۃ " ہے یعنی وہ بکری جس کے بال گرم پانی سے دور کےے جائیں ، پھر چمڑے سمیت بھون لی جائے۔ یہ چھوٹے بچے کے ساتھ کرتے ہیں چونکہ اس کا گوشت نرم ہو تا ہے یہ دنیا دار مغرور لوگوں کا فعل ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت