فهرس الكتاب

الصفحة 5786 من 7563

کتاب: لباس کے بیان میں

باب: کپڑا اوپر اٹھانا

5786 حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: فَرَأَيْتُ بِلاَلًا جَاءَ بِعَنَزَةٍ فَرَكَزَهَا، ثُمَّ أَقَامَ الصَّلاَةَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «خَرَجَ فِي حُلَّةٍ مُشَمِّرًا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ إِلَى العَنَزَةِ، وَرَأَيْتُ النَّاسَ وَالدَّوَابَّ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ وَرَاءِ العَنَزَةِ»

مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابن شمیل نے خبر دی ، کہا ہم کو عمر بن ابی زائدہ نے خبر دی ، کہا ہم کو عون بن ابی جحیفہ نے خبردی ، ان سے ان کے والد ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے دیکھا کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ ایک نیزہ لے کر آئے اور اسے زمین میں گاڑ دیا پھر نماز کے لیے تکبیر کہی گئی ۔ میں نے دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جوڑا پہنے ہوئے باہر تشریف لائے جسے آپ نے سمیٹ رکھا تھا ۔ پھر آپ نے نیزہ کے سامنے کھڑے ہو کر دو رکعت نماز عید پڑھائی اور میں نے دیکھا کہ انسان اور جانور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نیزہ کے باہر کی طرف سے گزر رہے تھے ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جوڑے کو سمیٹ رکھا تھا تاکہ زمین پر خاک آلود نہ ہو۔ باب اور حدیث میں یہی مطابقت ہے۔ امام کے آگے نیزہ کا سترہ گاڑنا بھی ثابت ہوا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت