فهرس الكتاب

الصفحة 5753 من 7563

کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں

باب: بد شگونی لینے کا بیان

5753 حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ، وَالشُّؤْمُ فِي ثَلاَثٍ: فِي المَرْأَةِ، وَالدَّارِ، وَالدَّابَّةِ

مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے عثمان بن عمر نے ، کہا کہ ہم سے یونس بن یزید ایلی نے ، ان سے سالم نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امراض میں چھوت چھات کی اور بد شگونی کی کوئی اصل نہیں اور اگر نحوست ہوتی تو یہ صرف تین چیزوں میں ہوتی ہے ۔ عورت میں ، گھر میں اورگھوڑے میں ۔

بد شگونی کے لغو ہونے پر سب عقلاءکا اتفاق ہے مگر چھوت کے معاملہ میں بعض اطباءاختلاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض امراض متعدی ہوتے ہیں مثلًا جذام اور طاعون وغیرہ ۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ تمہارا وہم ہے اگر وہ در حقیقت متعدی ہوتے تو ایک گھر کے یا ایک شہر کے سب لوگ مبتلا ہوجاتے مگر ایسا نہیں ہوتا بلکہ ایک گھر میں ہی کچھ لوگ بیمار ہوتے اور کچھ تندرست رہ جاتے ہیں جیسا کہ عام مشاہدہ ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت