4117 حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْخَنْدَقِ وَوَضَعَ السِّلَاحَ وَاغْتَسَلَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ قَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ وَاللَّهِ مَا وَضَعْنَاهُ فَاخْرُجْ إِلَيْهِمْ قَالَ فَإِلَى أَيْنَ قَالَ هَا هُنَا وَأَشَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ
مجھ سے عبد اللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا ' کہا ہم سے عبد اللہ بن نمیر نے بیان کیا ' ان سے ہشام بن عروہ نے ' ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جوں ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ خندق سے مدینہ واپس ہوئے اور ہتھیار اتارکر غسل کیا تو جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور کہا ' آپ نے ابھی ہتھیار اتاردیئے ؟ خدا کی قسم ! ہم نے تو ابھی ہتھیار نہیں اتارے ہیں ۔ چلئے ان پر حملہ کیجئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کن پر ؟ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ ان پر اور انہوں نے ( یہود کے قبیلہ ) بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا ۔ چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ پر چڑھائی کی ۔
جنگ خندق کے دنوں میں اس قبیلہ نے اندروں شہر بہت بد امنی پھیلائی تھی اور غداری کا ثبوت دیا تھا ۔ اس لیے ان پر حملہ کرنا ضروری ہوا۔