2938 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ، قِيلَ لَهُ: إِنَّهُمْ لاَ يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَخْتُومًا، «فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ، وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ»
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعبہ نے خبردی قتادہ سے ، انہوں نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ آپ بیان کرتے تھے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہ روم کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو آپ سے کہا گیا کہ وہ لوگ کوئی خط اس وقت تک قبول نہیں کرتے جب تک وہ سربمہر نہ ہو ، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چاندی کی انگوٹھی بنوائی ۔ گویا دست مبارک پر اس کی سفیدی میری نظروں کے سامنے ہے ۔ اس انگوٹھی پر " محمد رسول اللہ " کھدا ہوا تھا ۔
مقصد یہ ہے کہ اسلام کی دعوت باضابطہ تحریری طور پر سربراہ کی مہر سے مزین ہونی چاہیے۔ یہ جب ہے کہ شاہان عالم کو دعوتی خطوط لکھے جائیں اس سے تحریری تبلیغ کا بھی مسنون ہونا ثابت ہوا۔