6397 حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَدِمَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ دَوْسًا قَدْ عَصَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهَا، فَظَنَّ النَّاسُ أَنَّهُ يَدْعُو عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمْ»
ہم سے علی نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے کہا ، ان سے ابو الزناد نے ، ان سے اعرج نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ طفیل بن عمر و رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسو ل اللہ ! قبیلہ دوس نے نافر مانی اور سر کشی کی ہے ، آپ ان کے لئے بد دعاکیجئے ۔ لوگوں نے سمجھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے بد دعاہی کریں گے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاکی کہ " اے اللہ! قبیلہ دوس کو ہدایت دے اور انہیں ( میرے پاس ) بھیج دے ۔ '
پھر ایسا ہی ہوا قبیلہ دوس نے اسلام قبول کیا اور دربار نبوی میں حاضر ہوئے۔