فهرس الكتاب

الصفحة 697 من 7563

کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں

باب: جب صرف دو ہی نمازی ہوں

697 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ العِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَ، فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ نَامَ، ثُمَّ قَامَ، فَجِئْتُ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ - أَوْ قَالَ: خَطِيطَهُ - ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاَةِ

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے حکم سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا، وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے بتلایا کہ ایک رات میں اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر پر رہ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز کے بعد جب ان کے گھر تشریف لائے تو یہاں چار رکعت نماز پڑھی۔ پھر آپ سو گئے پھر نماز ( تہجد کے لیے ) آپ اٹھے ( اور نماز پڑھنے لگے ) تو میں بھی اٹھ کر آپ کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا، لیکن آپ نے مجھے اپنی داہنی طرف کر لیا۔ آپ نے پانچ رکعت نماز پڑھی۔ پھر دو رکعت ( سنت فجر ) پڑھ کر سو گئے اور میں نے آپ کے خراٹے کی آواز بھی سنی۔ پھر آپ فجر کی نماز کے لیے برآمد ہوئے۔

حدیث ہذا سے ثابت ہوا کہ جب امام کے ساتھ ایک ہی آدمی ہو تو وہ امام کے داہنی طرف کھڑا ہو جوان ہو یا نابالغ۔ پھر کوئی دوسرا آجائے تو وہ امام کے بائیں طرف نیت باندھ لے، پھر امام آگے بڑھ جائے یا مقتدی پیچھے ہٹ جائیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت