فهرس الكتاب

الصفحة 2662 من 7563

کتاب: گواہوں کے متعلق مسائل کا بیان

باب : جب ایک مرددوسرے مرد کو اچھا کہے تو یہ کافی ہے

2662 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الحَذَّاءُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَثْنَى رَجُلٌ عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:177] ، فَقَالَ: «وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ، قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ» مِرَارًا، ثُمَّ قَالَ: «مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ لاَ مَحَالَةَ، فَلْيَقُلْ أَحْسِبُ فُلاَنًا، وَاللَّهُ حَسِيبُهُ، وَلاَ أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا أَحْسِبُهُ كَذَا وَكَذَا، إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذَلِكَ مِنْهُ»

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبدالوہاب نے خبر دی ، کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دوسرے شخص کی تعریف کی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس! تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی ۔ تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی ۔ کئی مرتبہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا ) پھر فرمایا کہ اگر کسی کے لیے اپنے کسی بھائی کی تعریف کرنی ضروری ہوجائے تو یوں کہے کہ میں فلاں شخص کو ایسا سمجھتا ہوں ، آگے اللہ خوب جانتا ہے ، میں اللہ کے سامنے کسی کو بی عیب نہیں کہہ سکتا ۔ میں سمجھتا ہوں وہ ایسا ایسا ہے اگر اس کا حال جانتا ہو ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت