فهرس الكتاب

الصفحة 1773 من 7563

کتاب: عمرہ کے مسائل کا بیان

باب: عمرہ کا وجوب اور اس کی فضیلت

1773 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوبکر بن عبدالرحمن کے غلام سمی نے خبر دی، انہیں ابوصالح سمان نے خبر دی اور انہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزا جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

اللہ پاک نے قرآن مجید میں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کلام بلاغت نظام میں حج کے ساتھ عمرہ کا ذکر فرمایا ہے، جس سے عمرہ کا وجوب ثابت ہوا، یہی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بتلانا چاہتے ہیں آپ نے عمرہ کا وجوب آیت اور حدیث ہر دو سے ثابت فرمایا۔ حج مبرور وہ حج ہے جس میں از ابتداءتا انتہاءنیکیاں ہی ہوں اور آداب حج کو پورے طور پرنبھایا جائے ایسا حج یقینا دخول جنت کا موجب ہے۔ اللہم ارزقناہ ( آمین )

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت