فهرس الكتاب

الصفحة 2585 من 7563

کتاب: ہبہ کے مسائل، فضیلت اور ترغیب کا بیان

باب : ہبہ کا معاوضہ( بدلہ )ادا کرنا

2585 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبَلُ الهَدِيَّةَ وَيُثِيبُ عَلَيْهَا» ، لَمْ يَذْكُرْ وَكِيعٌ، وَمُحَاضِرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہد یہ قبول فرمالیا کرتے۔ لیکن اس کا بدلہ بھی دے دیا کرتے تھے۔ اس حدیث کو وکیع اور محاضر نے بھی روایت کیا، مگر انہوں نے اس کو ہشام سے، انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے کے الفاظ نہیں کہے۔

حدیث کے آخر میں راوی کے الفاظ لم ےذکر وکیع و محاضر عن ہشام عن ابیہ عن عائشۃ کا مطلب یہ کہ وکیع اور محاضر ہر دو راویوں نے اس حدیث کو ہشام سے، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے وصل نہیں کیا، بلکہ مرسلًا ہشام سے روایت کیا۔ ترمذی اور بزار نے کہا اس حدیث کو صرف عیسیٰ بن یونس نے وصل کیا۔ حافظ نے کہا وکیع کی روایت کو تو ابن ابی شیبہ نے نکالا، اور محاضر کی روایت مجھ کو نہیں ملی۔ بعضے مالکیہ نے اس حدیث سے ہبہ کا بدلہ کرنا واجب رکھا ہے اور حنفیہ اور شافعیہ اور جمہور کے نزدیک واجب نہیں مستحب ہے۔ قسطلانی نے کہا ہبہ بالمعاوضہ اگر معین اور معلوم معاوضہ کے بدل ہو تو بیع کی طرح درست ہوگا اور اگر معاوضہ مجہول ہو تو ہبہ صحیح نہ ہوگا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت