فهرس الكتاب

الصفحة 6250 من 7563

کتاب: اجازت لینے کے بیان میں

باب: اگر گھر والا پوچھے کہ کون ہے اس کے جواب میں کوئی کہے کہ میں ہوں اورنام نہ لے

6250 حَدَّثَنَا أَبُو الوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ المَلِكِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي، فَدَقَقْتُ البَابَ، فَقَالَ: «مَنْ ذَا» فَقُلْتُ: أَنَا، فَقَالَ: «أَنَا أَنَا» كَأَنَّهُ كَرِهَهَا

ہم سے ابو الولید ہشام بن عبد الملک نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن منکدر نے کہا کہ میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس قرض کے بارے میں حاضر ہوا جو میرے والد پر تھا۔ میں دروازہ کھٹکھٹایا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، کون ہیں ؟ میں نے کہا " میں " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " میں " " میں " جیسے آپ نے اس جواب کو ناپسند فرمایا ۔

کیونکہ بعض وقت صرف آواز سے صاحب خانہ پہچان نہیں سکتا کہ کون ہے اس لئے جواب میں اپنا نام بیان کرنا چاہئے

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت