فهرس الكتاب

الصفحة 3512 من 7563

کتاب: فضیلتوں کے بیان میں

باب: اسلم ، غفار ، مزینہ ، جہینہ اوراشجع

3512 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشٌ وَالْأَنْصَارُ وَجُهَيْنَةُ وَمُزَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارُ وَأَشْجَعُ مَوَالِيَّ لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے سعد بن ابراہیم نے ، ان سے عبدالرحمن بن ہرمز اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، قریش ، انصار ، جہینہ ، مزینہ ، اسلم ، غفار اور اشجع میرے خیر خواہ ہیں ، اوراللہ اور اس کے رسول کے سوا اور کوئی ان کا حمایتی نہیں ۔

یہاں بہ سلسلہ تذکرہ قبیلہ آپ نے قریش کا ذکر مقدم فرمایا، اس سے بھی قریش کی برتری ثابت ہوتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت