165 حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَكَانَ يَمُرُّ بِنَا وَالنَّاسُ يَتَوَضَّئُونَ مِنَ المِطْهَرَةِ، قَالَ: أَسْبِغُوا الوُضُوءَ، فَإِنَّ أَبَا القَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ»
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ ہمارے پاس سے گزرے اور لوگ لوٹے سے وضو کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا اچھی طرح وضو کرو کیونکہ ابوالقاسم نے فرمایا ( خشک ) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔
منشا یہ ہے کہ وضو کا کوئی عضو خشک نہ رہ جائے ورنہ وہی عضو قیامت کے دن عذاب الٰہی میں مبتلا کیا جائے گا۔