فهرس الكتاب

الصفحة 84 من 7563

کتاب: علم کے بیان میں

باب:اس شخص کے بارے میں جو ہاتھ لور سر کے اشارے سے فتویٰ کا جواب دے۔

84 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ فِي حَجَّتِهِ فَقَالَ: ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ؟ فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ، قَالَ: «وَلاَ حَرَجَ» قَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ؟ فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ: «وَلاَ حَرَجَ»

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے وہیب نے، ان سے ایوب نے عکرمہ کے واسطے سے نقل کیا، وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے ( آخری ) حج میں کسی نے پوچھا کہ میں نے رمی کرنے ( یعنی کنکر پھینکنے ) سے پہلے ذبح کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا ( اور ) فرمایا کچھ حرج نہیں۔ کسی نے کہا کہ میں نے ذبح سے پہلے حلق کرا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر سے اشارہ فرما دیا کہ کچھ حرج نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت