2055 حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرَةٍ مَسْقُوطَةٍ فَقَالَ لَوْلَا أَنْ تَكُونَ مِنْ صَدَقَةٍ لَأَكَلْتُهَا وَقَالَ هَمَّامٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَجِدُ تَمْرَةً سَاقِطَةً عَلَى فِرَاشِي
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے طلحہ بن مصرف نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گری ہوئی کھجور پر گزرے، تو آپ نے فرمایا کہ اگر اس کے صدقہ ہونے کا شبہ نہ ہوتا تو میں اسے کھا لیتا۔ او رہمام بن منبہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں اپنے بستر پر پڑی ہوئی ایک کھجور پاتا ہوں۔
یہ کھجور آپ کو اپنے بچھونے پر ملی تھی جیسے اس کے بعد کی روایت میں اس کی تصریح ہے۔ شاید آپ صدقہ کی کھجور بانٹ کر آئے ہوں اور کوئی ان ہی میں سے آپ کے کپڑوں میں لگ گئی ہو اور بچھونے پر گرپڑی ہو یہ شبہ آپ کو معلوم ہوا، اور آپ نے محض اس شبہ کی بنا پر اس کے کھانے سے پرہیز کیا، معلوم ہوا کہ مشتبہ چیز کے کھانے سے پرہیز کرنا کمال تقویٰ اور ورع ہے۔ اس مقصد کے پیش نظر اپنے منعقدہ باب کے تحت حضرت امام رحمۃ اللہ علیہ یہ حدیث لائے ہیں۔