فهرس الكتاب

الصفحة 1933 من 7563

کتاب: روزے کے مسائل کا بیان

باب : اگر روزہ دار بھول کر کھا پی لے تو روزہ نہیں جاتا

1933 حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا ابْنُ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا نَسِيَ فَأَكَلَ وَشَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ

ہم سے عبدان نے بیان کیا کہ ہمیں یزید بن زریع نے خبر دی، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ابن سیرین نے بیان کیا، کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی بھول گیا اور کچھ کھا پی لیا تو اسے چاہئے کہ اپنا روزہ پورا کرے۔ کیوں کہ اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا۔

امام حسن بصری اور مجاہد کے اس اثر کو عبدالرزاق نے وصل کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے ابن ابی نجیح سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے کہا اگر کو ئی آدمی رمضان میں بھول کر اپنی عورت سے صحبت کرے تو کوئی نقصان نہ ہوگا اور ثوری سے روایت کی، انہوں نے ایک شخص سے، انہوں نے حسن بصری سے، انہوں نے کہا کہ بھول کر جماع کرنا بھی بھول کر کھانے پینے کے برابر ہے ( وحیدی ) یہ فتوی ایک مسئلہ کی وضاحت کے لیے ہے ورنہ یہ شاذ ونادر ہی ہے کہ کوئی روزہ دار بھول کر ایسا کرے، کم از کم اسے یاد نہ رہا ہو تو عورت کو ضرور یاد رہے گا اور وہ یاد دلائے گی ا سی لیے بحالت روزہ قصدًا جماع کرنا سخت ترین گناہ قرار دیا گیا جس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اس کا کفارہ پے در پے دو ماہ کے روزے رکھنا وغیرہ وغیرہ قرار دیا گیا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت