فهرس الكتاب

الصفحة 4517 من 7563

کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

باب: آیت فمن کان منکم مریضا کی تفسیرمیں

4517 حدثنا آدم، حدثنا شعبة، عن عبد الرحمن بن الأصبهاني، قال سمعت عبد الله بن معقل، قال قعدت إلى كعب بن عجرة في هذا المسجد ـ يعني مسجد الكوفة ـ فسألته عن فدية من صيام فقال حملت إلى النبي صلى الله عليه وسلم والقمل يتناثر على وجهي فقال ‏ ‏ ما كنت أرى أن الجهد قد بلغ بك هذا، أما تجد شاة ‏ ‏‏.‏ قلت لا‏.‏ قال ‏ ‏ صم ثلاثة أيام، أو أطعم ستة مساكين، لكل مسكين نصف صاع من طعام، واحلق رأسك ‏ ‏‏.‏ فنزلت في خاصة وهى لكم عامة‏.

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے ، ان سے عبد الرحمن بن اصبہانی نے ، کہا میں نے عبد اللہ بن معقل سے سنا ، انھوں نے بیان کیا کہ میں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اس مسجد میں حاضر ہوا ، ان کی مراد کوفہ کی مسجد سے تھی اور ان سے روزے کے فدیہ کے متعلق پوچھا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے احرام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لوگ لے گئے اور جوئیں ( سر سے ) میرے چہرے پر گر رہی تھیں ، آپ نے فرما یا کہ میرا خیال یہ نہیں تھا کہ تم اس حد تک تکلیف میں مبتلا ہوگئے ہو تم کوئی بکری نہیں مہیا کر سکتے ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں ۔ فرمایا ، پھر تین دن کے روزے رکھ لو یاچھ مسکینوں کو کھا نا کھلا دو ، ہر مسکین کو آدھا صاع کھانا کھلانا اور اپنا سر منڈوا لو ۔ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا تو یہ آیت خاص میرے بارے میں نازل ہوئی تھی اور اس کا حکم تم سب کے لیے عام ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت