فهرس الكتاب

الصفحة 1455 من 7563

کتاب: زکوٰۃ کے مسائل کا بیان

باب: زکوٰۃ میں بوڑھا یا عیب دار یا نر جانور نہ

1455 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَتَبَ لَهُ الصَّدَقَةَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُخْرَجُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ وَلَا تَيْسٌ إِلَّا مَا شَاءَ الْمُصَدِّقُ

ہم سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا ' انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ' انہوں نے کہا مجھ سے ثمامہ نے بیان کیا ' ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کردہ احکام زکوٰۃ کے مطابق لکھا کہ زکوٰۃ میں بوڑھے، عیبی اور نرنہ لیے جائیں ' البتہ اگر صدقہ وصول کرنے والا مناسب سمجھے تو لے سکتا ہے۔

مثلًا زکوٰۃ کے جانور سب مادیاں ہی مادیاں ہوں نرکی ضرورت ہوتو نرلے سکتا ہے یا کسی عمدہ نسل کے اونٹ یا گائے یا بکری کی ضرورت ہو اور گو اس میں عیب ہو مگر اس کی نسل لینے میں آءندہ فاءدہ ہوتو لے سکتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت