فهرس الكتاب

الصفحة 2936 من 7563

کتاب: جہاد کا بیان

باب : مسلمان اہل کتاب کو دین کی بات بتلائے یا ان کو قرآن سکھائے ؟

2936 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى قَيْصَرَ وَقَالَ: «فَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الأَرِيسِيِّينَ»

ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، کہا ہم کو یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی ، کہا مجھے میرے بھتیجے ابن شہاب نے خبر دی ، ان سے ان کے چچا نے بیان کیا ، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( روم کے بادشاہ ) قیصر کو ( خط ) لکھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی لکھا تھا کہ اگر تم نے ( اسلام کی دعوت سے ) منھ موڑا تو ( اپنے گناہ کے ساتھ ) ان کاشتکاروں کا بھی گناہ تم پر پڑے گا ۔ ( جن پر تم حکمرانی کر رہے ہو )

یہ حدیث تفصیل کے ساتھ شروع کتاب میں گزر چکی ہے۔ اس خط میں آپ نے قرآن مجید کی آیت بھی لکھی تھی تو باب کا ترجمہ ثابت ہوگیا یعنی اہل کتاب کو قرآن سکھانا مگر یہ جب ہے کہ ان سے خیر کی امید ہو۔ اگر ان سے گستاخی اور بے ادبی کا خطرہ ہے تو ان کو قرآن شریف ہرگز ہرگز نہیں سکھانا چاہئے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت