فهرس الكتاب

الصفحة 2377 من 7563

کتاب: مساقات کے بیان میں

باب : قطعات اراضی بطور جاگیر دے کر ان کو سند لکھ دینا

2377 وَقَالَ اللَّيْثُ: عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَنْصَارَ لِيُقْطِعَ لَهُمْ بِالْبَحْرَيْنِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ فَعَلْتَ فَاكْتُبْ لِإِخْوَانِنَا مِنْ قُرَيْشٍ بِمِثْلِهَا، فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي»

اور لیث نے یحییٰ بن سعید سے بیان کیا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلا کر بحرین میں انہیں قطعات اراضی بطور جاگیر دینے چاہے تو انہوں نے عرض کیا کے اے اللہ کے رسول ! اگر آپ کو ایسا کرنا ہی ہے تو ہمارے بھائی قریش ( مہاجرین ) کو بھی اسی طرح کی قطعات کی سند لکھ دیجئے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا " میرے بعد تم دیکھو گے کہ دوسرے لوگوں کو تم پر مقدم کیا جائے گا۔ تو اس وقت تم مجھ سے ملنے تک صبر کئے رہنا۔ "

حکومت اگر کسی کو بطور انعام جاگیر عطا کرے تو اس کی سند لکھ دینا ضروری ہے تاکہ وہ آئندہ ان کے کام آئے اور کوئی ان کا حق نہ مار سکے۔ ہندوستان میں شاہان اسلام نے ایسی کتنی سندیں تانبے کے پتروں پر کندہ کرکے بہت سے مندروں کے پچاریوں کو دی ہیں۔ جن میں ان کے لیے زمینوں کا ذکر ہے پھر بھی تعصب کا برا ہوا کہ آج ان کی شاندار تاریخ کو مسخ کرکے مسلمانوں کے خلاف فضا تیار کی جارہی ہے۔ اللہم انصر الاسلام و المسلمین آمین

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت