فهرس الكتاب

الصفحة 5952 من 7563

کتاب: لباس کے بیان میں

باب: تصویروں کو توڑ نے کے بیان میں

5952 حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ، أَنَّ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حَدَّثَتْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَمْ يَكُنْ يَتْرُكُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا فِيهِ تَصَالِيبُ إِلَّا نَقَضَهُ»

ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام دستوائی نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے ، ان سے عمران بن حطان نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر میں جب بھی کوئی چیز ایسی ملتی جس پر صلیب کی مورت بنی ہو ( جیسے نصاریٰ رکھتے ہیں ) تو اس کو توڑ ڈالتے ۔

حالانکہ صلیب جاندار چیز نہیں ہے مگر نصاریٰ خصوصًا رومن کیتھولک صلیب کی پرستش کرتے ہیں۔ اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کو جہاں پاتے توڑ ڈالتے ، اللہ کے سوا جو چیز پوجی جائے اس کا یہی حکم ہے، اس کو توڑ پھوڑ کر برا بر کر دینا چاہیئے تاکہ دنیا میں شرک نہ پھیلے ۔ صلیب پر تعزیہ کو بھی قیاس کرنا چاہیئے۔ صلیب تو ایک پیغمبر کے واقعہ کی تصویر ہے اور تعزیہ میں تو یہ بات بھی نہیں ہے وہ صرف ایک مقبرہ کی مثل ہوتی ہے لیکن عوام اس کی پرستش کرتے ہیں، اس کے سامنے جھکتے ہیں ، اس پر نذر ونیاز چڑھا تے ہیں، اسی طرح سدے علم وغیرہ ان سب کا توڑ پھینکنا ضروری ہے۔ اسلامی شریعت میں اللہ کے سوا کسی کی پوجا جائز نہیں ہے جن بزرگوں اور اولیاءکی قبور مثل مساجد بنا کر پرستش گاہ بنی ہوئی ہیں ان کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا تھا کہ جو بلند قبر دیکھیں اس کو برابر کردیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانے میں ابو ل سیاج اسدی کو بھی یہی حکم دیا تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت