فهرس الكتاب

الصفحة 6256 من 7563

کتاب: اجازت لینے کے بیان میں

باب: ذمیوں کے سلام کا جواب کس طرح دیا جائے؟

6256 حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَ رَهْطٌ مِنَ اليَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ، فَفَهِمْتُهَا فَقُلْتُ: عَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَهْلًا يَا عَائِشَةُ، فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الأَمْرِ كُلِّهِ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَدْ قُلْتُ: وَعَلَيْكُمْ

ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبردی، انہیں زہری نے ، انہوں نے کہا کہ مجھے عروہ نے خبر دی، اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیاکہ کچھ یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ " السام علیک " ( تمہیں موت آئے ) میں ان کی بات سمجھ گئی اور میں نے جواب دیا " علیکم السام واللعنۃ " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ صبر سے کام لے کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام معاملات میں نرمی کو پسند کرتاہے، میں نے عرض کیا یارسول اللہ! کیا آپ نے نہیں سنا کہ انہوں نے کیا کہا تھا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ان کو جواب دے دیا تھاکہ " وعلیکم " ( اور تمہیں بھی )

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت