فهرس الكتاب

الصفحة 2281 من 7563

کتاب: اجرت کے مسائل کا بیان

باب : اس کے متعلق جس نے کسی غلام کے مالکوں سے غلام کے اوپر مقررہ ٹیکس میں کمی کے لیے سفارش کی

2281 حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا حَجَّامًا فَحَجَمَهُ وَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ أَوْ صَاعَيْنِ أَوْ مُدٍّ أَوْ مُدَّيْنِ وَكَلَّمَ فِيهِ فَخُفِّفَ مِنْ ضَرِيبَتِهِ

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے بیان کیا، اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پچھنالگانے والے غلام ( ابوطیبہ ) کو بلایا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پچھنا لگایا۔ اور آپ نے انہیں ایک یا دو صاع، یا ایک یا دو مد ( راوی حدیث شعبہ کو شک تھا ) اجرت دینے کے لیے حکم فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان کے مالکوں سے بھی ) ان کے بارے میں سفارش فرمائی تو ان کا خراج کم کر دیا گیا۔

پچھلی حدیث میں پچھنا لگانے والے غلام کی کنیت ابوطیبہ رضی اللہ عنہ مذکور ہے۔ ان کا نام نافع بتلایا گیا ہے۔ حافظ نے اسی کو صحیح کہا ہے۔ ابن حذاءنے کہا کہ ابوطیبہ نے 134سال کی عمر پائی تھی۔ حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ غلام یا لونڈی کے اوپر مقررہ ٹیکس میں کمی کرانے کی سفارش کرنا درست ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ اب اسلام کی برکت سے غلامی کا یہ بدترین دور تقریبًا دنیا سے ختم ہو چکا ہے۔ مگر اب غلامی کے دوسرے طریقے ایجاد ہو گئے ہیں جو اور بھی بدتر ہیں۔ اب قوموں کو غلام بنایا جاتا ہے جن کے لیے اقلیت اور اکثریت کی اصطلاحات مروج ہو گئی ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت