فهرس الكتاب

الصفحة 135 من 7563

کتاب: وضو کے بیان میں

باب: نماز بغیر پاکی کے قبول نہیں

135 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الحَنْظَلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تُقْبَلُ صَلاَةُ مَنْ أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ» قَالَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ: مَا الحَدَثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟، قَالَ: فُسَاءٌ أَوْ ضُرَاطٌ

ہم سے اسحاق بن ابراہیم الحنظلی نے بیان کیا۔ انھیں عبدالرزاق نے خبر دی، انھیں معمر نے ہمام بن منبہ کے واسطے سے بتلایا کہ انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص حدث کرے اس کی نماز قبول نہیں ہوتی جب تک کہ وہ ( دوبارہ ) وضو نہ کر لے۔ حضرموت کے ایک شخص نے پوچھا کہ حدث ہونا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( پاخانہ کے مقام سے نکلنے والی ) آواز یا بے آواز والی ہوا۔

فساءہوا کو کہتے ہیں جو ہلکی آواز سے آدمی کے مقعد سے نکلتی ہے اور ضراط وہ ہوا جس میں آواز ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت