فهرس الكتاب

الصفحة 2391 من 7563

کتاب: قرض لینے، ادا کرنے ، حجر اور مفلسی منظور کرنے کے بیان میں

باب : تقاضے میں نرمی کرنا

2391 حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَاتَ رَجُلٌ فَقِيلَ لَهُ قَالَ كُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ فَأَتَجَوَّزُ عَنْ الْمُوسِرِ وَأُخَفِّفُ عَنْ الْمُعْسِرِ فَغُفِرَ لَهُ قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ سَمِعْتُهُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ہم سے مسلم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک نے، ان سے ربعی بن حراش نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص کا انتقال ہوا ( قبر میں ) اس سے سوال ہوا، تمہارے پا س کوئی نیکی ہے؟ اس نے کہا کہ میں لوگوں سے خرید و فروخت کرتا تھا۔ ( اور جب کسی پر میرا قرض ہوتا ) تو میں مالداروں کو مہلت دیا کرتاتھا اور تنگ دستوں کے قرض کو معاف کر دیا کرتا تھا اس پر اس کی بخشش ہو گئی۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔

اس سے تقاضے میں نرمی کرنے کی فضیلت ثابت ہوئی۔ اللہ پاک نے قرآن میں فرمایا و ان کان ذو عسرۃ فنظرۃ الی میسرۃ و ان تصدقوا خیر لکم ( البقرۃ: 280 ) یعنی اگر مقروض تنگ دست ہو تو اس کو ڈھیل دینا بہتر ہے۔ اور اگر اس پر صدقہ ہی کردو تو یہ اور بھی بہتر ہے خلاصہ یہ ہے کہ یہ عمل عنداللہ بہت ہی پسندیدہ ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت