5623 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ: أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَانَ جُنْحُ اللَّيْلِ، أَوْ أَمْسَيْتُمْ، فَكُفُّوا صِبْيَانَكُمْ، فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَنْتَشِرُ حِينَئِذٍ، فَإِذَا ذَهَبَ سَاعَةٌ مِنَ اللَّيْلِ فَحُلُّوهُمْ، فَأَغْلِقُوا الأَبْوَابَ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لاَ يَفْتَحُ بَابًا مُغْلَقًا، وَأَوْكُوا قِرَبَكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ، وَخَمِّرُوا آنِيَتَكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ، وَلَوْ أَنْ تَعْرُضُوا عَلَيْهَا شَيْئًا، وَأَطْفِئُوا مَصَابِيحَكُمْ»
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ مجھے عطاءنے خبردی ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات کی جب ابتدا ہویا ( آپ نے فرمایا ) جب شام ہو تو اپنے بچوں کو روک لو ( اور گھر سے باہر نہ نکلنے دو ) کیونکہ اس وقت شیطان پھیل جاتے ہیں پھر جب رات کی ایک گھڑی گزرجائے تو انہیں چھوڑ دو اور دروازے بند کرلو اور اس وقت اللہ کا نام لو کیونکہ شیطان بند دروازے کو نہیں کھولتا اوراللہ کا نام لے کر اپنے مشکیزوں کا منہ باندھ دو ۔ اللہ کا نام لے کر اپنے برتنوں کو ڈھک دو ، خواہ کسی چیز کو چوڑائی میں رکھ کر ہی ڈھک سکو اور اپنے چراغ ( سونے سے پہلے ) بجھادیا کرو ۔
سوتے وقت چراغ بجھا دینے کا فائدہ دوسری روایت میں مذکور ہے کہ چوہا بتی منہ میں دبا کر کھینچ لے جاتا ہے اکثر گھروں میں آگ لگ جاتی ہے لہٰذا ہر حال میں ضروری ہے کہ سوتے وقت چراغ بجھا دیئے جائیں روشنی گل کردی جائے۔