فهرس الكتاب

الصفحة 2237 من 7563

کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان

باب : کتے کی قیمت کے بارے میں

2237 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَمَهْرِ الْبَغِيِّ وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابی بکر بن عبدالرحمن نے او رانہیں ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کی اجرت او رکاہن کی اجرت سے منع فرمایا تھا۔

عرب میں کاہن لوگ بہت تھے جو آئندہ کی باتیں لوگوں کو بتلایا کرتے تھے۔ آج کل بھی ایسے دعویدار بہت ہیں۔ ان کو اجرت دینا یا شیرینی پیش کرنا قطعًا جائز نہیں ہے نہ ان کا پیسہ کھانا جائز ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت