فهرس الكتاب

الصفحة 251 من 7563

کتاب: غسل کے احکام و مسائل

باب: اس بارے میں کہ ایک صاع یا اسی طرح کسی چیز کے وزن بھر پانی سے غسل کرنا چاہیے

251 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ [ص:60] ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، يَقُولُ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَخُو عَائِشَةَ عَلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلَهَا أَخُوهَا عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ نَحْوًا مِنْ صَاعٍ، فَاغْتَسَلَتْ، وَأَفَاضَتْ عَلَى رَأْسِهَا، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا حِجَابٌ» قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَبَهْزٌ، وَالجُدِّيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، «قَدْرِ صَاعٍ»

ہم سے عبداللہ بن محمد نے حدیث بیان کی، انھوں نے کہا کہ ہم سے عبدالصمد نے، انھوں نے کہا ہم سے شعبہ نے، انھوں نے کہا ہم سے ابوبکر بن حفص نے، انھوں نے کہا کہ میں نے ابوسلمہ سے یہ حدیث سنی کہ میں ( ابوسلمہ ) اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی حضرت عائشہ کی خدمت میں گئے۔ ان کے بھائی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے بارے میں سوال کیا۔ تو آپ نے صاع جیسا ایک برتن منگوایا۔ پھر غسل کیا اور اپنے اوپر پانی بہایا۔ اس وقت ہمارے درمیان اور ان کے درمیان پردہ حائل تھا۔ امام ابوعبداللہ ( بخاری ) کہتے ہیں کہ یزید بن ہارون، بہز اور جدی نے شعبہ سے قدر صاع کے الفاظ روایت کئے ہیں۔

یہ ابوسلمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی بھانجے تھے اور آپ کے محرم تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پردہ سے خود غسل فرماکر ان کو طریقہ غسل کی تعلیم فرمائی۔ مسنون غسل یہی ہے کہ ایک صاع پانی استعمال کیا جائے۔ صاع حجازی کچھ کم پونے تین سیر کے قریب ہوتا ہے۔ جس کی تفصیل کچھ پہلے گزر چکی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت