فهرس الكتاب

الصفحة 2353 من 7563

کتاب: مساقات کے بیان میں

باب : اس کے بارے میں جس نے کہا کہ پانی کا مالک پانی کا زیادہ حق دار ہے

2353 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوالزناد نے، انہیں اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچے ہوئے پانی سے کسی کو اس لیے نہ روکا جائے کہ اس طرح جو ضرورت سے زیادہ گھاس ہو وہ بھی رکی رہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کا کنواں ایک مقام پر ہو، اس کے ارد گرد گھاس ہو جس میں عام طور پر سب کو چرانے کا حق ہو۔ مگر کنویں والا کسی کے جانوروں کو پانی نہ پینے دے اس غرض سے کہ جب پانی پینے کو نہ ملے تو لوگ اپنے جانور بھی وہاں چرانے کو نہ لائیں گے اور گھاس محفوظ رہے گی۔ جمہور کے نزدیک یہ حدیث محمول ہے اس کنویں پر جو ملکی زمین میں ہو یا ویران زمین میں بشرطیکہ ملکیت کی نیت سے کھودا گیا ہو اور جو کنواں خلق اللہ کے آرام کے لیے ویران زمین میں کھودا جائے اس کا پانی ملک نہیں ہوتا، لیکن کھودنے والا جب تک وہاں سے کوچ نہ کرے اس پانی کا زیادہ حق دا رہوتا ہے۔ اور ضرورت سے یہ مراد ہے کہ اپنے اور بال بچوں اور زراعت اور مویشی کے لیے جو پانی درکار ہو۔ اس کے بعدجو فاضل ہو اس کا روکنا جائز نہیں۔ خطابی نے کہا کہ یہ ممانعت تنزیہی ہے مگر اس کی دلیل کیا ہے پس ظاہر یہی ہے کہ نہی تحریمی ہے اور پانی کو نہ روکنا واجب ہے۔ اب اختلاف ہے کہ فاضل پانی کی قیمت لینا اس کو روکنا ہے یا نہیں۔ ترجیح اسی کوحاصل ہے کہ فاضل پانی کی قیمت نہ لی جائے، کیوں کہ یہ بھی ایک طرح اس کا روکنا ہی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت