فهرس الكتاب

الصفحة 2142 من 7563

کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان

باب : نجش یعنی دھوکا دینے کے لیے قیمت بڑھانا کیسا ہے؟ اور بعض نے کہا یہ بیع ہی جائز نہیں

2142 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّجْشِ

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی ا للہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے " نجش " سے منع فرمایا تھا۔

نجش خاص طور پر شکار کو بھڑکانے کے معنی میں آتا ہے۔ یہاں ایک خاص مفہوم شرعی کے تحت یہ مستعمل ہے۔ وہ مفہوم یہ کہ کچھ تاجر اپنے غلط گو ایجنٹ مقرر کردیتے ہیں جن کا کام یہی ہوتا ہے کہ ہر ممکن صورت میں خریدنے والوں کو دھوکہ دے کر زیادہ قیمت وصول کرائیں۔ ایسے ایجنٹ بعض دفعہ گاہک کی موجودگی میں اس چیز کا دام بڑھا کر خریدار بنتے ہیں۔ حالانکہ وہ خریدار نہیں ہیں۔ گاہک دھوکہ میں آکر بڑھے ہوئے داموں پر وہ چیز خرید لیتا ہے۔ الغرض بیع میں دھوکہ فریب کی جملہ صورتیں سخت ترین گناہ کبیرہ کا درجہ رکھتی ہیں۔ شریعت نے سختی سے ان کو روکا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت