فهرس الكتاب

الصفحة 1867 من 7563

کتاب: مدینہ کے فضائل کا بیان

باب: مدینہ کے حرم کا بیان

1867 حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَحْوَلُ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مِنْ كَذَا إِلَى كَذَا لَا يُقْطَعُ شَجَرُهَا وَلَا يُحْدَثُ فِيهَا حَدَثٌ مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ

ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، ان سے ثابت بن یزید نے بیان کیا، ان سے ابوعبدالرحمن احول عاصم نے بیان کیا، اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ حرم ہے فلاں جگہ سے فلاں جگہ تک (یعنی جبل عیر سے ثور تک ) اس حد میں کوئی درخت نہ کاٹا جائے نہ کوئی بدعت کی جائے اور جس نے بھی یہاں کوئی بدعت نکالی اس پر اللہ تعالیٰ اور تمام ملائکہ اور انسانوں کی لعنت ہے۔

حرم مدینہ کا بھی وہی حکم ہے جو مکہ کے حرم کا ہے صرف جزا لازم نہیں آتی۔ امام مالک اور امام شافعی اور احمد اور اہل حدیث کا یہی مذہب ہے۔ شعبہ اور حماد کی روایت میں اتنا اور زیادہ ہے یا کسی بدعتی کو جگہ دے دے۔ معاذ اللہ بدعت ایسی بری بلا ہے کہ آدمی بدعتی کو جگہ دےنے سے ملعون ہوجاتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت