2273 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ انْطَلَقَ أَحَدُنَا إِلَى السُّوقِ فَيُحَامِلُ فَيُصِيبُ الْمُدَّ وَإِنَّ لِبَعْضِهِمْ لَمِائَةَ أَلْفٍ قَالَ مَا تَرَاهُ إِلَّا نَفْسَهُ
ہم سے سعید بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ ( یحییٰ بن سعید قریش ) نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شفیق نے اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا، تو بعض لوگ بازاروں میں جاکر بوجھ اٹھاتے جن سے ایک مدمزدوری ملتی ( وہ اس میں سے بھی صدقہ کرتے ) آج ان میں سے کسی کے پاس لاکھ لاکھ ( درہم یا دینار ) موجود ہیں۔ شفیق نے کہا ہمارا خیال ہے کہ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کسی سے اپنے ہی تیئں مراد لیا تھا۔
اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ عہد نبوی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم محنت مزدوری بخوشی کیا کرتے تھے۔ حتی کہ وہ حمالی بھی کرتے پھر جو مزدوری ملتی اس میں سے صدقہ بھی کرتے۔ اللہ پاک ان کو امت کی طرف سے بے شمار جزائیں عطا کرے کہ اس محنت سے انہوں نے شجر اسلام کی آبیاری کی، آج الحمد للہ وہی مدینہ ہے جن کے باشندے فراخی اور کشادگی میں بہت بڑھے ہوئے ہیں۔ آج مدینہ میں کتنے ہی عظیم محلات موجود ہیں۔