فهرس الكتاب

الصفحة 5707 من 7563

کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں

باب: جذام کا بیان

5707 وَقَالَ عَفَّانُ: حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ، وَلاَ هَامَةَ وَلاَ صَفَرَ، وَفِرَّ مِنَ المَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الأَسَدِ»

اور عفان بن مسلم ( امام بخاری کے شیخ ) نے کہا ( ان کو ابونعیم نے وصل کیا ) ہے کہ ہم سے سلیم بن حیان نے بیان کیا ، ان سے سعید بن میناءنے بیان کیا ، کہا کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاچھوت لگنا ، بد شگونی لینا ، الو کا منحوس ہونا اور صفر کا منحوس ہونا یہ سب لغو خیالات ہیں البتہ جذامی شخص سے ایسا بھاگتا رہ جیسا کہ شیر سے بھاگتا ہے ۔

جذام ایک خراب مشہور بیماری ہے جس میں خون بگڑ کر سارا جسم گلنے لگ جاتا ہے۔ آخر میں ہاتھ پاؤں کی انگلیاں جھڑجاتی ہیں۔ ہر چند مرض کا پورا ہونا بہ حکم الٰہی ہے مگر جذامی کے ساتھ خلط ملط اور یکجائی اس کا سبب ہے اور سبب سے پرہیز کرنا مقتضائے دانشمندی ہے یہ توکل کے خلاف نہیں ہے۔ جب یہ اعتقاد ہو کہ سبب اس وقت اثر کرتا ہے جب مسبب الاسباب یعنی پروردگار اس میں اثر دے۔ بعضوں نے کہا آپ نے پہلے فرمایا جذامی سے بھاگتا رہ یہ اس کے خلاف نہیں ہے آپ کا مطلب یہ تھا کہ اکثر شر سے ڈرنے والے کمزور لوگ ہوتے ہیں ان کو جذامی سے الگ رہنا ہی بہتر ہے ایسا نہ ہو کہ ان کو کوئی عارضہ ہو جائے تو علت اس کی جذامی کا قرب قرار دیں اورشرک میں گرفتار ہوں گویا یہ حکم عوام کے لیے ہے اور خواص کو اجازت ہے وہ جذامی سے قرب رکھیں تو بھی کوئی قباحت نہیں ہے۔ حدیث میں ہے کہ آپ نے جذامی کے ساتھ کھانا کھایا اورفرمایا "کل بسم اللہ ثقۃ باللہ وتوکلا علیہ" طاعون زدہ شہروں کے لیے بھی یہی حکم ہے۔

علامہ ابن قیم نے " زاد المعاد " میں لکھا ہے کہ احادیث میں تعدیہ کی نفی اوہام پرستی کو ختم کرنے کے لیے کی گئی ہے۔ یعنی یہ سمجھنا کہ بیماری اڑ کر لگ جاتی ہے اور بیماریوں میں تعدیہ اس حیثیت سے قطعًا نہیں ہے۔ اصلًا تعدیہ کا انکار مقصود نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی بیماریوں میں تعدیہ پیدا کیا ہے۔ اس لیے اس باب میں اوہام پرستی نہ کرنی چاہیے ۔

"ھامہ" کا اعتقاد عرب میں اس طرح تھا کہ وہ بعض پرندوں کے متعلق سمجھتے تھے کہ اگروہ کسی جگہ بیٹھ کر بولنے لگے تووہ جگہ اجاڑ ہوجاتی ہے۔ شریعت نے اس کی تردید کی کہ بننا اور بگڑنا کسی پرندے کی آواز سے نہیں ہوتابلکہ اللہ تعالیٰ کے چاہنے سے ہوتا ہے ۔ الو کے متعلق آج تک عوام جہلاءکا یہی خیال ہے۔ بعض شہد کی مکھیوں کے چھتہ کے بارے میں ایسا وہم رکھتے ہیں یہ سب خیالات فاسدہ ہیں مسلمان کو ایسے خیالات باطلہ سے بچنا ضروری ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت