فهرس الكتاب

الصفحة 2197 من 7563

کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان

باب : جب تک کھجور پختہ نہ ہو اس کا بیچنا منع ہے

2197 حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا وَعَنْ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ قِيلَ وَمَا يَزْهُو قَالَ يَحْمَارُّ أَوْ يَصْفَارُّ

مجھ سے علی بن ہشیم نے بیان کیا کہ ہم سے معلی بن منصور نے بیان کیا، ان سے ہشیم نے بیان کیا، انہیں حمید نے خبر دی او ران سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا ہے اور کھجور کے باغ کو " زہو " سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا، آپ سے پوچھا گیا کہ زہو کسے کہتے ہیں تو آپ نے جواب دیا مائل بہ سرخی یا مائل بہ زردی ہونے کو کہتے ہیں۔

گویا لفظ زہو خاص کھجور کے مائل بہ سرخی یا مائل بہ زردی ہونے پر بولا جاتاہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت