1600 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَهُ مَنْ يَسْتُرُهُ مِنْ النَّاسِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ أَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ قَالَ لَا
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، انہیں اسماعیل بن ابی خالد نے خبردی، انہیں عبداللہ ابن ابی اوفیٰ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو آپ نے کعبہ کا طواف کرکے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں۔ آپ کے ساتھ کچھ لوگ تھے جو آپ کے اور لوگوں کے درمیان آڑ بنے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک صاحب نے ابن ابی اوفیٰ سے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے تھے تو انہوں نے بتایا کہ نہیں۔
یعنی کعبہ کے اندر داخل ہونا کوئی لازمی رکن نہیں۔ نہ حج کی کوئی عبادت ہے۔ اگر کوئی کعبہ کے اندر نہ جائے تو کچھ قباحت نہیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم خود حجتہ الوداع کے موقع پر اندر نہیں گئے۔ نہ عمرۃ القضاءمیں آپ اندر گئے نہ عمرئہ جعرانہ کے موقع پر۔ غالبًا اس لیے بھی نہیں کہ ان دنوں کعبہ میں بت رکھے ہوئے تھے۔ پھر فتح مکہ کے وقت آپ نے کعبہ شریف کی تطہیر کی اور بتوں کو نکالا۔ تب آپ اندر تشریف لے گئے۔ حجتہ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر نہیں گئے حالانکہ اس وقت کعبہ میں بت بھی نہ تھے۔ غالبًا اس لیے بھی کہ لوگ اسے لازمی نہ سمجھ لیں۔