فهرس الكتاب

الصفحة 1393 من 7563

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

باب: مردوں کو برا کہنے کی ممانعت ہے

1393 حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا وَرَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ عَنْ الْأَعْمَشِ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ الْأَعْمَشِ تَابَعَهُ عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ وَابْنُ عَرْعَرَةَ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا' انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا' ان سے اعمش نے بیان کیا' ان سے مجاہد نے بیان کیا اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا' مردوں کو برانہ کہو کیونکہ انہوں نے جیسا عمل کیا اس کا بدلہ پالیا۔ اس روایت کی متابعت علی بن جعد' محمد بن عرعرہ اور ابن ابی عدی نے شعبہ سے کی ہے۔ اور اس کی روایت عبداللہ بن عبدالقدوس نے اعمش سے اور محمد بن انس نے بھی اعمش سے کی ہے۔

یعنی مسلمان جو مرجائیں ان کا مرنے کے بعد عیب نہ بیان کرنا چاہیے۔ اب ان کو برا کہنا ان کے عزیزوں کو ایذا دینا ہے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت