فهرس الكتاب

الصفحة 6968 من 7563

کتاب: شرعی حیلوں کے بیان میں

باب : نکاح پر جھوٹی گواہی گزر جائے تو کیا حکم ہے

6968 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ وَلَا الثَّيِّبُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ إِذْنُهَا قَالَ إِذَا سَكَتَتْ وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ إِنْ لَمْ تُسْتَأْذَنْ الْبِكْرُ وَلَمْ تَزَوَّجْ فَاحْتَالَ رَجُلٌ فَأَقَامَ شَاهِدَيْ زُورٍ أَنَّهُ تَزَوَّجَهَا بِرِضَاهَا فَأَثْبَتَ الْقَاضِي نِكَاحَهَا وَالزَّوْجُ يَعْلَمُ أَنَّ الشَّهَادَةَ بَاطِلَةٌ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَطَأَهَا وَهُوَ تَزْوِيجٌ صَحِيحٌ

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کسی کنواری لڑکی کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کی اجازت نہ لے لی جائے اور کسی بیوہ کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس کا حکم نہ معلوم کرلیا جائے۔ پوچھا گیا یا رسول اللہ اس کی ( کنواری کی) اجازت کی کیا صورت ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی خاموشی اجازت ہے۔ اس کے باوجود بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کنواری لڑکی سے اجازت نہ لی گئی اور نہ اس نے نکاح کیا۔ لیکن کسی شخص نے حیلہ کرکے دو جھوٹے گواہ کھڑے کردئیے کہ اس نے لڑکی سے نکاح کیا ہے اس کی مرضی سے اور قاضی نے بھی اس کے نکاح کا فیصلہ کردیا۔ حالانکہ شوہر جانتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے کہ گواہی جھوٹی تھی اس کے باوجود اس لڑکی سے صحبت کرنے میں اس کے لیے کوئی حرج نہیں ہے بلکہ یہ نکاح صحیح ہوگا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت