فهرس الكتاب

الصفحة 2042 من 7563

کتاب: اعتکاف کے مسائل کا بیان

باب : اعتکاف کے لیے روزہ ضروری نہ ہونا

2042 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَخِيهِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْفِ نَذْرَكَ فَاعْتَكَفَ لَيْلَةً

ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے اپنے بھائی ( عبدالحمید ) سے، ان سے سلیمان نے، ان سے عبیداللہ بن عمر نے، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، ان سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے پوچھا، یا رسول اللہ ! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ ایک رات کا مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اپنی نذر پوری کر۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک رات بھر اعتکاف کیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت