فهرس الكتاب

الصفحة 1954 من 7563

کتاب: روزے کے مسائل کا بیان

باب : روزہ کس وقت افطا رکرے؟

1954 حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَا هُنَا وَغَرَبَتْ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ

ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے عاصم بن عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب سے سنا، ان سے ان کے باپ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب رات اس طرف ( مشرق ) سے آئے اور دن ادھر مغرب میں چلا جائے کہ سورج ڈوب جائے تو روزہ کے افطار کا وقت آگیا۔

حدیث اور باب میں مطابقت ظاہر ہے، حضرت سفیان بن عیینہ جو یہاں بھی سند میں آئے ہیں 107ھ میں ماہ شعبان میں کوفہ میں ان کی ولادت ہوئی۔ امام، عالم، زاہد، پرہیزگار تھے، ان پر جملہ محدثین کا اعتماد تھا۔ جن کا متفقہ قول ہے کہ اگر امام مالک اور سفیان بن عیینہ نہ ہوتے تو حجاز کا علم نابود ہو جاتا۔ 198ھ میں یکم رجب کو مکہ مکرمہ میں ان کا انتقال ہوا اور حجون میں دفن کئے گئے انہوں نے ستر حج کئے تھے۔ رحمہم اللہ اجمعین ( آمین )

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت