فهرس الكتاب

الصفحة 5541 من 7563

کتاب: ذبیح اور شکار کے بیان میں

باب: جانوروں کے چہروں پر داغ دینا یا نشان کرنا کیسا ہے

5541 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ تُعْلَمَ الصُّورَةُ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: «نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُضْرَبَ» تَابَعَهُ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا العَنْقَزِيُّ، عَنْ حَنْظَلَةَ، وَقَالَ: «تُضْرَبُ الصُّورَةُ»

ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ، ان سے حنظلہ نے ، ان سے سالم نے ، ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ و ہ چہرے پر نشان لگانے کو نا پسند کرتے تھے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے سے منع کیا ہے ۔ عبیداللہ بن موسیٰ کے ساتھ اس حدیث کو قتیبہ بن سعید نے بھی روایت کیا ، کہا ہم کو عمرو بن محمد عنقزی نے خبر دی ، انہوں نے حنظلہ سے ۔

اس روایت میں صراحت ہے کہ منہ پر مارنے سے منع فرمایا بعض جاہل معلموں کی عادت ہے کہ بچوں کے منہ پر مارا کرتے ہیں۔ ان کو اس حدیث سے نصیحت لینی چاہیئے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت