فهرس الكتاب

الصفحة 1896 من 7563

کتاب: روزے کے مسائل کا بیان

باب : روزہ داروں کے لیے ریان(نامی ایک دروازہ جنت میں بنایا گیا ہے اس کی تفصیل کا بیان )

1896 حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ يُقَالُ أَيْنَ الصَّائِمُونَ فَيَقُومُونَ لَا يَدْخُلُ مِنْهُ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ

ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم سلمہ ابن دینار نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں قیامت کے دن اس دروازہ سے صرف روزہ دار ہی جنت میں داخل ہوں گے، ان کے سوا اور کوئی اس میں سے نہیں داخل ہوگا، پکارا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہے؟ وہ کھڑے ہو جائیں گے ان کے سوا اس سے اور کوئی نہیں اندر جانے پائے گا اور جب یہ لوگ اندر چلے جائیںگے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا پھر اس سے کوئی اندر نہ جاسکے گا۔

لفظ ریان ری سے مشتق ہے جس کے معنی سیرابی کے ہیں چوں کہ روزہ میں پیاس کی تکلیف ایک خاص تکلیف ہے جس کا بدل ریان ہی ہو سکتا ہے جس سے سیرابی حاصل ہو، اس لیے یہ دروازہ خاص روزہ داروں کے لیے ہوگا جس میں داخل ہو کر وہ سیراب اور قطعی سیراب ہوجائیں گے پھر وہ تاابد پیاس محسوس نہیں کریں گے۔ و جعلنا اللّٰہ منہم آمین

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت