فهرس الكتاب

الصفحة 2927 من 7563

کتاب: جہاد کا بیان

باب : ترکوں سے جنگ کا میدان

2927 حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الحَسَنَ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ تَغْلِبَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُقَاتِلُوا قَوْمًا يَنْتَعِلُونَ نِعَالَ الشَّعَرِ، وَإِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ تُقَاتِلُوا قَوْمًا عِرَاضَ الوُجُوهِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ المَجَانُّ المُطْرَقَةُ»

ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، ان سے جریر بن حازم نے بیان کیا ، کہا میں نے حسن سے سنا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ تم ایسی قوم سے جنگ کرو گے جو باتوں کی بناتے ہیں ( یا ان کے بال بہت لمبے ہوں گے ) اور قیامت کی ایک نشانی یہ ہے کہ ان لوگوں سے لڑو گے جن کے منھ چوڑے چوڑے ہوں گے گویا وہ ڈھالیں ہیں چمڑا جمی ہوئی ( یعنی بہت موٹے منھ والے ہوں گے ) ۔

حدیث میں مطوقۃ یا مطرقہ ہے معنی دونوں کے ایک ہی ہیں اقوام تاتار مراد ہیں جو بعد میں دولت اسلام سے مشرف ہوئے۔ ترک سے مراد یہاں وہ قوم ہے جو یافث بن نوح کی اولاد میں ہے۔ علی العموم تاتار کے لوگ آنحضرتﷺ اور خلفائے اسلام کے زمانوں تک کافر رہے۔ یہاں تک کہ ہلاکو خاں ترک نے عربوں پر چڑھائی کرکے خلافت عباسیہ کا کام تمام کیا۔ اس کے بعد کچھ ترک مشرف باسلام ہوئے۔ وہب بن منبہ نے کہا کہ ترک یاجوج ماجوج کے چچیرے بھائی ہیں۔ جب سد بنائی گئی تو یہ لوگ غائب تھے وہ دیوار کے اسی طرف رہ گئے۔ اسی لئے ان کا نام ترک یعنی متروک ہوگیا' واللہ اعلم بالصواب۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت