فهرس الكتاب

الصفحة 2310 من 7563

کتاب: وکالت کے مسائل کا بیان

باب : کوئی عورت اپنا نکاح کرنے کے لیے بادشاہ کو وکیل کردے

2310 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ لَكَ مِنْ نَفْسِي فَقَالَ رَجُلٌ زَوِّجْنِيهَا قَالَ قَدْ زَوَّجْنَاكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنْ الْقُرْآنِ

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ علیہ نے خبر دی، انہیں ابوحازم نے، انہیں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے بیان کیا کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں نے خود کو آپ کو بخش دیا۔ اس پر ایک صحابی نے کہا کہ آپ میرا ان سے نکاح کر دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہارا نکاح ان سے اس مہر کے ساتھ کیا جو تمہیں قرآن یاد ہے۔

یہ وکالت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عورت کے اس قول سے نکالی کہ میں نے اپنی جان آپ کو بخش دی۔ داؤدی نے کہا حدیث میں وکالت کا ذکر نہیں ہے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر مومن اور مومنہ کے ولی ہیں بموجب آیت النبی اولی بالمومنین الخ اور اسی ولایت کی وجہ سے آپ نے اس عورت کا نکاح کر دیا۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مہر میں تعلیم قرآن بھی داخل ہوسکتی ہے۔ اگرکچھ اس کے پاس مہر میں پیش کرنے کے لیے نہ ہو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دختر حضرت شعیب علیہ السلام کے مہر میں اپنی جان کو دس سال کے لیے بطور خادم پیش فرمایا تھا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں مذکور ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت