فهرس الكتاب

الصفحة 1442 من 7563

کتاب: زکوٰۃ کے مسائل کا بیان

باب: اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک

1442 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنِي أَخِي عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي مُزَرِّدٍ عَنْ أَبِي الْحُبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيهِ إِلَّا مَلَكَانِ يَنْزِلَانِ فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا وَيَقُولُ الْآخَرُ اللَّهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا

ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ' کہا کہ ہم سے میرے بھائی ابوبکر بن ابی اویس نے بیان کیا ' ان سے سلیمان بن بلال نے ' ان سے معاویہ بن ابی مزرد نے ' ان سے ابوالحباب سعید بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ جب بندے صبح کو اٹھتے ہیں تو دو فرشتے آسمان سے نہ اترتے ہوں۔ ایک فرشتہ تو یہ کہتا ہے کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ دے۔ اور دوسرا کہتا ہے کہ اے اللہ! ممسک اور بخیل کے مال کو تلف کردے۔

ابن ابی حاتم کی روایت میں اتنا زیادہ ہے۔ تب اللہ پاک نے یہ آیت اتاری فاما من اعطی واتقی آخر تک اوراس روایت کو باب میں اس آیت کے تحت ذکر کرنے کی وجہ بھی معلوم ہوگئی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت