5549 حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:100] يَوْمَ النَّحْرِ: «مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيُعِدْ» فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ - وَذَكَرَ جِيرَانَهُ - وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ؟ فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَلاَ أَدْرِي بَلَغَتِ الرُّخْصَةُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لاَ، ثُمَّ انْكَفَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا، وَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا، أَوْ قَالَ: فَتَجَزَّعُوهَا
ہم سے صدقہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابن علیہ نے خبر دی ، انہیں ایوب نے ، انہیں محمد بن سیرین نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فرمایا کہ جس نے نماز عید سے پہلے قربانی ذبح کرلی ہے وہ دوبارہ قربانی کرے اس پر ایک صاحب نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ وہ دن ہے جس میںگوشت کھانے کی خواہش ہوتی ہے پھر انہوں نے اپنے پڑوسیوں کا ذکر کیا اور ( کہا کہ ) میرے پاس ایک سا ل سے کم کا بکری کا بچہ ہے جس کا گوشت دو بکریوں کے گوشت سے بہتر ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی ۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ اجازت دوسروں کو بھی ہے یا نہیں ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دومینڈھوں کی طرف مڑے اور انہیں ذبح کیا پھر لوگ بکریوں کی طرف بڑھے اور انہیں تقسیم کرکے ( ذبح کیا )
حضرت محمد بن سیرین حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ ہیں۔ یہ فقیہ عالم عابد وزاہد ومتقی ومشہور محدث تھے۔ لوگ ان کو دیکھتے تو اللہ یاد آجاتا تھا۔ موت کے ذکر سے ان کا رنگ زرد ہو جاتا تھا۔ مشہور جلیل القدر تابعین میں سے ہیں۔ سنہ110ھ میں بعمر 77سال وفات پائی۔