فهرس الكتاب

الصفحة 6058 من 7563

کتاب: اخلاق کے بیان میں

باب: منہ دیکھی بات کرنے والے( دوغلے )کے بارے میں

6058 حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَجِدُ مِنْ شَرِّ النَّاسِ يَوْمَ القِيَامَةِ عِنْدَ اللَّهِ ذَا الوَجْهَيْنِ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ، وَهَؤُلاَءِ بِوَجْهٍ»

ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوصالح نے بیان کیا ، ان سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تم قیامت کے دن اللہ کے ہاں اس شخص کو سب سے بد تر پاؤ گے جو کچھ لوگوں کے سامنے ایک رخ سے آتا ہے اور دوسروں کے سامنے دوسرے رخ سے جاتا ہے ۔

ہر جگہ لگی لپٹی بات کہتا ہے۔ دو رخا آدمی وہ ہے کہ ہر فریق سے ملا رہے۔ جس کی صحبت میں جائے ان کی سی کہے۔ یعنی رکابی مذہب والا ( با مسلمان اللہ اللہ با برہمن رام رام ) قال القرطبی انما کان ذوالوجھین شر الناس لان حالہ حال المنافق ( فتح ) یعنی منہ دیکھی بات کرنے والا بد ترین آدمی ہے اس لئے کہ اس کا منافق جیسا حال ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت