6213 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ، يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الكُهَّانِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسُوا بِشَيْءٍ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا بِالشَّيْءِ يَكُونُ حَقًّا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تِلْكَ الكَلِمَةُ مِنَ الحَقِّ، يَخْطَفُهَا الجِنِّيُّ، فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ، فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ»
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم کو مخلد بن یزید نے خبر دی ، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی کہ ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھ کو یحییٰ بن عروہ نے خبر دی ، انہوں نے عروہ سے سنا ، کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ان کی ( پیشین گوئیوں کی ) کوئی حیثیت نہیں ۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! لیکن وہ بعض اوقات ایسی باتیں کرتے ہیں جو صحیح ثابت ہوتی ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بات سچی بات ہوتی ہے جسے جن فرشتوں سے سن کر اڑا لیتا ہے اور پھر اسے اپنے ولی ( کاہن ) کے کان میں مرغ کی آواز کی طرح ڈالتا ہے ۔ اس کے بعد کاہن اس ( ایک سچی بات میں ) سو سے زیادہ جھوٹ ملا دیتے ہیں ۔