فهرس الكتاب

الصفحة 1034 من 7563

کتاب: استسقاء یعنی پانی مانگنے کا بیان

باب: جب ہوا چلتی

1034 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَتْ الرِّيحُ الشَّدِيدَةُ إِذَا هَبَّتْ عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں محمد بن جعفر نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھے حمید طویل نے خبر دی اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب تیز ہوا چلتی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ڈر محسوس ہوتا تھا۔

آندھی کے بعد چونکہ اکثر بارش ہوتی ہے، اس مناسبت سے حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو یہاں بیان کیا، قوم عاد پرآندھی کا عذاب آیا تھا۔ اس لیے آندھی آنے پر آپ عذاب الٰہی کا تصور فرما کر گھبرا جاتے۔ مسلم کی روایت میں ہے کہ جب آندھی چلتی تو آپ ان لفظوں میں دعافرماتے: اللھم انی اسئلک خیرھا ما فیھا واعوذبک من شرھا وشرما فیھا وخیرما ارسلت بہ وشرما ارسلت بہ یعنی"یا اللہ میں اس آندھی میں تجھ سے خیر کا سوال کرتا ہوں اور اس کے نتیجہ میں بھی خیر ہی چاہتا ہوں اور یا اللہ میں تجھ سے اس کی اور اس کے اندر کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور جو شر یہ لے کر آئی ہے اس سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں۔"ایک روایت میں ہے کہ جب آپ آندھی دیکھتے تو دو زانو ہو کر بیٹھ جاتے اور یہ دعا فرماتے: اللھم اجعلھا ریاحا ولا تجعلھا ریحا یعنی یا اللہ اس ہوا کو فائدہ کی ہوا بنا نہ کہ عذاب کی ہوا۔ لفظ ریاح رحمت کی ہوا اور ریح عذاب کی ہوا پر بولا گیا ہے جیسا کہ قرآن مجید کی متعدد آیات میں وارد ہوا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت